شاعری

pictureملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح

منظوم نظموں کا مجموعہ

مرتب : خورشید ربانی
ناشر : اکادمی ادبیات پاکستان
قیمت: 250 روپے
تشکیل ای بک: نوید فخر

اختر ہوشیار پوری

قائدِاعظمؒ کی وفات پر

خاک اُڑتی ہوئی دھندلائی ہوئی پھیلی فضا
کہیں ملتا تھا نہ منزل کا ہمیں کوئی سراغ

دور تک ایک گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا تمام
کوئی رہبر تھا نہ رستہ نہ ستارہ نہ چراغ

دفعتاً ایسے میں اک پیر جواں فکر اُٹھا
مشعلِ راہ بنی جس کی جبیں بے داغ

تلخی¿ دردِ گراں بار کا افسوں ٹوٹا
اور مہکنے لگے ہر سمت بیاباں ہو کہ راغ

قافلے چلنے پہ آ جائیں تو رکتے کب ہیں
لاکھ طوفان اُٹھیں لاکھ دھندلکے چھائیں

جھلملاتے بھی ہیں بجھتے بھی ہیں محفل میں دیے
یہ مگر تاروں کے پرچم کہ سدا لہرائیں

یہی جھونکے ہیں جو پھولوں کو سُلا دیتے ہیں
یہی جھونکے ہیں جو پیغامِ بہاراں لائیں

زندگی بڑھتے ہوئے تند تھپیڑوں کا ہے نام
آو¿ اے زخم رسےدو کہ کہےں ٹکرائیں

کےا ہوا آج اگر قائداعظمؒ نہ رہے
بڑھ کے ان تےرہ فضاوں مےں اُجالا کر دو

آرزو آہوں سے اشکوں سے نہےں ہے مربوط
اپنے پرچم کو ستاروں سے بھی اونچا کر دو

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 |
| 22 | 23 | 24 | 25 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں