شاعری

pictureملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح

منظوم نظموں کا مجموعہ

مرتب : خورشید ربانی
ناشر : اکادمی ادبیات پاکستان
قیمت: 250 روپے
تشکیل ای بک: نوید فخر

خورشید رضوی

اک شخص دیکھنے میں نحیف و نزار سا
باطن کی قوتوں میں مگر کوہسار سا

غیروں کے روبرو صفت چوب خشک دار
اپنوں کے واسطے شجر سایہ دار سا

خود ہو گیا غروب مگر دشتِ تیرہ میں
پھرتا ہے اس کی روشنیوں کا غبار سا

وہ کب کا جا چکا ہے مگر چشمِ خیرہ میں
باقی ہے اس کے عکسِ رواں کا خمار سا

آنا اسے نہیں ہے مگر اس کی چاپ کا
کرتی ہے اب بھی ارضِ وطن انتظار سا

ہم خاک ہو چکے ہیں مگر اس کی یاد سے
آتا ہے اپنے ہونے کا کچھ اعتبار سا

اٹھتی ہے خونِ خفتہ میں پھر زندگی کی لہر
ملتا ہے سیلِ جبر پر کچھ اختیار سا

ایسا ہے وہ تو آﺅ اسے حرزِ جاں کریں
یادوں کے اس کی سمت سفینے رواں کریں

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 |
| 22 | 23 | 24 | 25 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں