شاعری

pictureملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح

منظوم نظموں کا مجموعہ

مرتب : خورشید ربانی
ناشر : اکادمی ادبیات پاکستان
قیمت: 250 روپے
تشکیل ای بک: نوید فخر

خیال امروہوی

معمارِ قوم کے لیے

سطوتِ شہرِ تحرک عظمتِ آزادگاں
عزم کا کوہ ہمالہ، جہد کی روحِ رواں
نابغہ، رہبر، مبصر، ناقدِ عالی مقام
افتخار حُریت کا پاسباں، خیرالعوام
عصر بے چہرہ کو جس سے حرفِ گویائی ملا
ناتواں نسلوں کو ذوقِ رزمِ آرائی ملا
اس کی چشم ذرہ بیں خورشید کی پالی ہوئی
فکر کی بالا قدی قانون میں ڈھالی ہوئی
رہبرانِ آگہی کا نقش پُر تاثیر تھا
آدمی کیا تھا غلامی کے لیے شمشیر تھا
بحرِ ملت کا تموج یک نگاہی کا خطیب
نغمہ¿ مزمار ہستی روحِ قوم خوش نصیب
جودت فکر و سیاست آگہی کا آفتاب
لوحِ تنظیم و عزائم، حافظِ اُم الکتاب
امنیت کیش و خضر کردار معمارِ وطن
ظلمتِ انساں کشی میں سوچ کی پہلی کرن
کوکب ایثار و خورشید سپہر انتقاد
خود نگر، خود کوش، معیار نوائے بامراد
ضامن قانون و صناع نقوشِ استناد
حامی¿ حرف و صداقت، حاملِ حق العباد
رمزدانِ عقل و حکمت نکتہ سنجِ ملہمات
بطلِ میدانِ جسارت، صوتِ صحرائے جہاد
گنگ صدیوں کو دیا جس نے کلیمی معجزہ
محرمان عصر کے منبر کا موسائی عصر
کاٹ سے جس کی ہراساں ہیبتِ تیغ ستیز
جس کی امن آرائیوں سے سخت نادم رستخیز
واقفِ تقسیمِ کشور، رہنمائے نقشہ گر
زینتِ دستِ مورخ پیش گوئے معتبر
رعد کی صورت سے گرجا مطلع¿ تقدیر پر
صاعقہ بن کر گرا ہر خرمنِ تزویر پر
اس کی بالغ سوچ درسِ ارتقا بنتی گئی
بے سماعت عہد میں بانگِ درا بنتی گئی
مصحفِ عمراں میں اُس جیسی پذیرائی نہ تھی
آدمی نے اس قدر عظمت کبھی پائی نہ تھی
فخر ہے دنیا کو اس کے جاوداں افکار پر
اس کی ہیبت آج بھی طاری ہے استعمار پر
اس نے محکوموں کی زنجیرِ غلامی توڑ دی
ساحرِ مغرب نے ڈر کر ارضِ مشرق چھوڑ دی
منتشر پھولوں کو جس انساں نے یک دستہ کیا
آج اس قائدؒ کو ہم نے کس قدر خستہ کیا
کشورِ کم آگہی میں کوئی آسودہ نہیں
کوئی ملت ایسی بدحالی سے آلودہ نہیں
قرض کے ملبے میں دب کر رہ گئے بے بس عوام
قریہ قریہ ہے صدائے انتقام، انتقام
زہرِ استعمار سے مسموم ہیں سارے بدن
کس نے پھونکوں سے بجھا ڈالا چراغِ انجمن
سو¿ قسمت خود ہی ہم نے بیج ایسا بو دیا
غیب سے آیا ہوا معمارِ ملت کھو دیا
ارتقا، کے خواب بے تعبیر ہو کے رہ گئے
انحطاطِ عقل کی تفسیر ہو کر رہ گئے
جل گئے خوش رنگ جلوے آتشِ آفات میں
فلسفے خود کوشیوں کے ڈھل گئے خیرات میں
وقت باقی ہے کہ پھر کھوئی ہوئی تمکین لیں
غاصبوں سے نیک چلنی کی نئی تضمین لیں
دستِ نا محسوس نے لُوٹا ہے جو ملی وقار
قوتِ بازو سے یہ سوغات بڑھ کر چھین لیں

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 |
| 22 | 23 | 24 | 25 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں