شاعری

pictureملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح

منظوم نظموں کا مجموعہ

مرتب : خورشید ربانی
ناشر : اکادمی ادبیات پاکستان
قیمت: 250 روپے
تشکیل ای بک: نوید فخر

ثاقب حزیں

 

بانی پاکستان کے حضور

یہ قوم ہوئی راندہ درگاہِ سیاست
اغیار کی محکومی میں جادہ یہ رواں تھا
ہر راہ نما اپنے لیے چاہ نما تھا
ملت کے بدن میں تو نیا پھونک دیا دم
تقدیر میں ہر سو نظر آتے تھے اندھیرے
نومیدی کا پھر رقص رواں زلف بکھیرے
تاریک تھیں سب راہیں تو ہر رہ میں لٹیرے
ایسے میں مسلمان کو پھر کس نے جگایا
بد بختی نے جس قوم کو صدیوں سے سلایا
میدانِ سیاست میں تری شاہ سواری
احباب جو تھے ہمت و محنت سے بھی عاری

بلدیو کو دیول کو اور نہرو کو پچھاڑا
لارنس کو الیگزانڈر و بیٹن کو گرایا
اک نعرہ مستانہ زمانے کو سنایا
پھر یاد سے تیری مری آنکھیں ہوئیں پر نم

تنظیم کا جو درس کبھی تم نے دیا تھا
مسلم کو اخوت پہ عمل تم نے کہا تھا
پھر عزم و یقیں رکھ کے ہمیں کس نے بڑھایا

اس نعرہئِ مستانہ سے اغیار تھے برہم
پر تیری جدائی سے وہ الفت نہ ہوئی کم

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 |
| 22 | 23 | 24 | 25 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں