شاعری

pictureملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح

منظوم نظموں کا مجموعہ

مرتب : خورشید ربانی
ناشر : اکادمی ادبیات پاکستان
قیمت: 250 روپے
تشکیل ای بک: نوید فخر

تحسین فراقی

بیادِ قائِد اعظمؒ

فضا اُداس تھی صحرائے کربلا کی طرح
اُجاڑ صحنِ عمل دیدہءگدا کی طرح
افق پہ گہرے سیہ بادلوں کے پہرے تھے
خموش مسلمِ بے کس مری دعا کی طرح
ہوائیں چیختی پھرتی تھیں دشتِ غربت میں
کبھی سموم کی صورت، کبھی صبا کی طرح
پکارتی تھیں یہ پیہم دلوں کی تشنگیاں
کوئی تو ڈالے یہاں حرفِ لاالہٰ کی طرح

وہ بے حسی تھی کہ سیماب بھی سکونی تھا
فسادِ قالب جمہور اندرونی تھا!

دعا کناں تھی مسلسل، چمن کی بے بصری
کہ خوابِ نرگسی سے کوئی دیدہ ور جاگے
کسی خضر کسی الیاس کا ظہور تو ہو
کوئی مسیح صفت کیمیا اثر جاگے
فضا کے تیکھے عناصر کا یہ تقاضا تھا
بطونِ سنگ میں اب ہمت سفر جاگے
وہ جس کے نعرہئِ کن سے نگر نگر جاگے
وہ جس کی بانگِ قیادت پہ گھر کے گھر جاگے
اسی کا فیضِ نمو ہے چمن کی سمت تو دیکھ
کہ ڈال ڈال کے آغوش میں ثمر جاگے

ظہورِ نابغہءروز گار کیا کہیے
نزولِ رحمتِ پروردگار کیا کہیے

سراجِ کلبہ¿ ادبار قائِداعظمؒ
جنون و جذب کی للکار قائِداعظمؒ
چراغِ کعبہ¿ِ کردار قائِداعظمؒ
سراغِ قبلہ¿ِ احرار قائِداعظمؒ
وہ درجِ گوہرِ افکار قائِداعظمؒ
وہ بُرجِ قوتِ اظہار قائِداعظمؒ
لچک میں شاخِ ثمردار قائِداعظمؒ
اٹل بصورتِ کُہسار قائِداعظمؒ
نئے اُفق کا طلبگار قائِداعظمؒ
وہ اپنے عہد کا فنکار قائِداعظمؒ

ہم اس کے رمزِ سیاست سے کج کلہ ہوں گے
اسی کے درسِ قیادت سے مہر و مہ ہوں گے

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 |
| 22 | 23 | 24 | 25 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں