شاعری

pictureملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح

منظوم نظموں کا مجموعہ

مرتب : خورشید ربانی
ناشر : اکادمی ادبیات پاکستان
قیمت: 250 روپے
تشکیل ای بک: نوید فخر

پیش لفظ

نئے چمن کی وہ بنیاد ڈالنے والا

تحریک پاکستان کو کامیاب بنانے میں جن اکابرین اور عظیم شخصیات کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے۔ ان میں قائداعظم محمد علی جناح کو نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہے، قائداعظمؒقافلہ سالار تھے، ان کے بغیرتحریک آزادی کا ہر باب نامکمل ہے، انہوں نے انگریزوں کے استبداد کا جس طرح جرات اور بے باکی سے مقابلہ کیا تاریخ اس پر رہتی دنیا تک ناز کرے گی ، قائداعظمؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کو اپنا نصب العین بنا لیا اور جہد مسلسل سے غلامی اور محکومی کی زنجیریں توڑ ڈالیں۔
تو نے آزادی کے وہ چاند کئے ہیں روشن
جن کی کرنوں نے ہر اک ذہن کو چمکایا ہے
قائداعظمؒ نے برصغیر کی آزادی کے لیے اپنے پایہ استقامت میں لغزش پیدا نہ ہونے دی ،سوئے ہوئے مسلمانوں کو جگایا ، انہیں رہنمائی دی اور حقیقی منزل کا راستہ دکھایا ، قائداعظمؒ عظمت اور رفعت کا مینار تھے ۔انہوں نے مسلمانوں کوعروج بخشا، وہ بیماری کے باوجود ایک آزاد وطن کے لیے برسرپیکار رہے، وہ عالمِ اسلام کی عظیم ترین شخصیتوں میں سے تھے ، مسلمانوں کے مسلمہ رہنما ، عظیم لیڈر، ذہانت، فطانت ، فراست ، عزم و ہمت ، اخلاص اور حب الوطنی میں بے مثال ، بقول ڈاکٹر محمد سلیم انہوں نے پاکستان بنایا ہی نہیں بلکہ وہ خود پاکستان تھے ، وہی ان کی رگوں میں دوڑتا پھرتا تھا، وہی ان کا دل تھا اور وہی ان کا دماغ ، انہوں نے تاریخ کے دھارے کا رخ تبدیل کر دیا۔
اسی نے بیڑیاں کاٹیں ہمارے پاﺅں کی
گلے سے طوق یہی تھا نکالنے والا
اسی کے لفظ حرارت بنے تھے جسموں کی
یہی تھا گرتے ہوﺅں کو سنبھالنے والا
اسی نے سبز رتوں کی بشارتیں بخشیں
حصار شب سے یہی تھا نکالنے والا
جو آج کل ہمیں شدت سے یاد آتا ہے
نئے چمن کی وہ بنیاد ڈالنے والا
بابائے قومؒ کی عظیم اور بے مثال قربانیوں کے باعث انہیں ہر سطح پر عوام نے محبت دی ، ہر سال ان کے یوم پیدائش اور یوم وفات پر تقاریب منعقد کی جاتی ہیں ان کی پرعزم جدوجہد کو خراج پیش کیاجاتا ہے ، اخبارات کے خصوصی ایڈیشن شائع ہوتے ہیں ،ہر شہر میں پروگرام اور مذاکرے ہوتے ہیں ، ٹی وی، ریڈیو پرخصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔
قائد اعظمؒ کے حضور منظوم نذرانے ان کی زندگی میں بھی پیش کئے جاتے رہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔انگریزی زبان میں سب سے پہلے برصغیر کی ممتاز سیاست دان ،یوپی کی گورنر ، ہند کانگرس کی مقتدر شخصیت مسز سروجنی نائیڈو نے منظوم نذرانہ پیش کیا،وہ انگریزی کی معروف شاعرہ تھیں ، انہوں نے قائداعظمؒ کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر قرار دیا ، ان کی نظم ملاحظہ ہو:
In the moon, tide hours
o'dove secure and strong
I need thee not
But in the desolate hour of midnight
When
An ecastasy of starry silence sleeps
on the still mountains and the soundless deep
And my soul hungers for the voice.
قائداعظمؒ کی خدمت میںاُردو زبان کا اولین نذرانہ عقیدت معروف علمی اور دینی شخصیت علامہ سید سلیمان ندویؒ نے پیش کیا ، 30 ، 31 دسمبر 1916ءکو آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس لکھنﺅمیں منعقد ہوا جس کی صدارت حضرت قائداعظمؒ نے کی ، علامہ سلیمان ندویؒ قائداعظمؒ کی نابغہ روزگار شخصیت سے بے حد متاثر تھے، ان کی نظم کے چند اشعار دیکھئے:
بادہ حب وطن کچھ کیف پیدا کر سکے
دور میں یوں ہی اگر یہ ساغر و مینا رہا
جب ہمارے چارہ فرما زہر کہتے تھے اسے
جس پر اب موقوف ساری قوم کا جینا رہا
پر مریض قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید
ڈاکٹر اس کا اگر مسٹر علی جناح رہا
آل انڈیامسلم لیگ کی تجدید اور تنظیم نو کے سلسلہ میں قائداعظمؒ نے 1924ءمیں پورے برصغیر کا دورہ کیا، اس ضمن میں وہ 24 ۔ 25 مئی 1924ءکو لاہور آئے ، اس موقع پر ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے فی البدیہہ شعر کہا جو جلسہ کے دوران مدیر ”سیاست“ نے قائد کی نذر کیا:
آتی نہیں نظر میں کوئی صورت فلاح
شاید بتائیں راہ محمد علی جناح
قائداعظمکے انتقال پر چین کے معروف شاعر لوہ ینگ نے ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔
(ترجمہ)
جناح ! اے مقاو مت، جہاد اور انقلاب کے نشان
جسے صحراﺅں کے خانہ بدوش بھی پہچانتے تھے اور گنگا کے کناروں پر بسنے والے بھی جانتے تھے
میرا کمزور دل آج غم کے مقابلہ سے عاجز ہے ، میں رونے پر مجبور ہوں۔
اگرچہ آنسو میرے غم کی شدت کے اظہار سے قاصر ہیں....
جناح ! روح انسانی تجھے کبھی بھول نہ پائے
حکمرانوں کی نخوت اور دشمنوں کی لذت خون آشامی
برقرار رہے گی لیکن صبر و اطمینان سے اپنی آنکھیں بند کر لے
کیونکہ جنگلوں میں ، اور ساحلوں پر تیرے بیٹے ہی نہیں بیٹیاں بھی تلواریں ہاتھوں میں لیے حق کی حمایت کرتی رہیں گی۔ وہ تیرے طویل جہاد کو ازسر نو شروع کریں گے اور یہ تحریک ہی تیرا کام پایہ تکمیل کو پہنچائے گی یہ نوحہ نہیں ایک حلف ہے۔
بہت دنوں سے میری خواہش تھی کہ قائد اعظمؒ پر لکھی جانے والی شاعری کا انتخاب مرتب کروں۔ امسال جب مسلم لیگ کی صد سالہ تقریبات کے انعقاد کا فیصلہ ہوا تو میری خواہش کو تقویت ملی اور میں نے کام کا آغاز کر دیا، اخبار میں اشتہار دیا، کئی شعراءسے فون پر درخواست کی اور خطوط لکھے یوں میرے خواب کے تعبیر ہونے کی صورت پیدا ہو گئی،چند نظمیں ایسی بھی ہیں کہ جوقائداعظمکی زندگی ہی میں لکھی گیئںاور کسی نہ کسی تقریب میں پڑھی بھی گیئں اس لیے ان کے ساتھ حوالہ شامل کر لیا گیا ہے۔پرسی وکیل کی نظم میں ایک مصرعہ بے وزن ہے لیکن تاریخی اہمیت کے طور پر اسے شامل کیا گیا ہے اور مصرعہ ویسے رہنے دیا ہے۔پاکستانی زبانوں سے تراجم بھی شامل کےے گئے ہےں۔ کتاب کی اشاعت پر اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین جناب افتخار عارف، محترمہ سعیدہ درانی اور طارق شاہد صاحب کا بے حد شکر گزار ہوں کہ ان کی توجہ سے یہ مرحلہ طے ہو سکا، برادرم الہی بخش، اختر رضا سلیمی، عقیل عباس جعفری اور ساجد محمود کا بھی احسان مند ہوں کہ ان کی محبتوں کے بغیر یہ کام مشکل تھا۔

خورشید ربانی

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 |
| 22 | 23 | 24 | 25 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں