شاعری

pictureملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح

منظوم نظموں کا مجموعہ

مرتب : خورشید ربانی
ناشر : اکادمی ادبیات پاکستان
قیمت: 250 روپے
تشکیل ای بک: نوید فخر

ابصار عبدالعلی

جس کو چلیں اٹھا کے، وہ سر دے گیا ہمیں
زنجیر کاٹنے کا ہنر دے گیا ہمیں

جو اتحاد و نظم و یقیں کا اسیر تھا
آزاد اک وطن وہ بشر دے گیا ہمیں

ہم دیکھتے نہیں تو ہمارا قصور ہے
وہ دیکھنے کو اپنی نظر دے گیا ہمیں

سب موسموں سے بالا حوالہ بہار کا
دور خزاں میں برگ و ثمر دے گیا ہمیں

کتنی بلندیوں سے گرے تھے اٹھا لیا
ہم زیر تھے مقامِ زبر دے گیا ہمیں

رہنے کے واسطے نہ زمیں تھی نہ آسماں
ہم جس میں سر چھپائیں وہ گھر دے گیا ہمیں
صدیوں سے منجمد تھے ہمارے تو حوصلے
برف آب آندھیوں میں شرر دے گیا ہمیں

پھر آج ہم کو چاہیے قائدؒ وہی کہ جو
صدیوں طویل شب کی سحر دے گیا ہمیں

وہ قافلہ کہاں جو اسی سمت چل سکے
جس سمت کا وہ اذنِ سفر دے گیا ہمیں

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 |
| 22 | 23 | 24 | 25 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں