شاعری

pictureملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح

منظوم نظموں کا مجموعہ

مرتب : خورشید ربانی
ناشر : اکادمی ادبیات پاکستان
قیمت: 250 روپے
تشکیل ای بک: نوید فخر

اعظم کمال

میرے قائد

مرے قائِد
جو ہم سب نے
سہاناخواب دیکھاتھا
جسے تعبیر دی تو نے
بڑا منظر سہاناتھا
اخوت کا ترانہ تھا
مرے قائدؒ
مگراب تو
وہ منظر ہوگیا عنقا
بہاریں جس کی باندی تھیں
کھلے تھے بے تحاشا گل
محبت کے
عقیدت کے
شرافت کے
اصولوںکی حکومت کے
سمندر جس میںبہتاتھا
خلوص و شادمانی کا
صداقت کی جوانی کا
محبت کی روانی کا
مرے قائدؒ
ترا گلشن
کہ جس میں خوبصورت دلنشیں پھولوںکامیلہ تھا
خیالوںکاہمالہ تھا،کئی سوچوںکاریلہ تھا
حقیقی زندگانی کاجھمیلہ تھا
نہ سندھی تھا نہ پنجابی
نہ پشتوںتھا نہ بنگالی
بلوچی بھی فدا سارے
مرے قائدؒ
وہ منظراب بھی باقی ہے
اگرچہ نا مکمل سا
خزاں چھائی ہے اب جس پر
بہاریں جیسے روٹھی ہوں
چمن تو اب بھی باقی ہے
مگرافسوس اس میں پھول کھلتے ہیں
حقارت کے
عداوت کے
کراہت کے
ہلاکت کے
مرے قائدؒ
میں نادم ہوں
کہ تیرے خواب کے منظرکااک کردارمیں بھی ہوں

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 |
| 22 | 23 | 24 | 25 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں