شاعری

pictureملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح

منظوم نظموں کا مجموعہ

مرتب : خورشید ربانی
ناشر : اکادمی ادبیات پاکستان
قیمت: 250 روپے
تشکیل ای بک: نوید فخر

احسان اکبر

قائد کی حضوری میں

قائدؒ: ہندو کے مقاصد کی نگہداری سے
غافل کانگرس تھی اور نہ گاندھی تھے
سن اُنتالیس کے اُنتیس اکتوبر کے اک مضموں میں
گاندھی جی یہ لکھتے ہیں
”اگر ہندوستان میں کوئی انگریزی عملداری کا
سچا آرزو مند اور حامی ہے
تو بس وہ کانگرس ہے
اور یہی تنظیم وہ ہے
جو کہ اہلِ ہند کی اور ہندوو¿ں کی پکّی اور سچّی نمائندہ ہے
پر ہندو بہت کمزور ہیں“ یہ الفاظ گاندھی جی کے ہیں
شاعر: اگر پہلی صدا آزاد ہونے کی کسی نے دی
تو وہ موہان کے مولانا حسرت© تھے
کوئی تحریک اُٹھی تو اُٹھی کشمیر سے
عبدالقدیر اک عام سا انسان جس کا رہنما تھا
شیخ عبداللہ: میں نے دیکھا ہے کہ ہندو اور مسلم کے مسائل ایک ہیں
شاعر: سارے سائل ایک ہیں، ان کے مسائل ایک ہیں
کچھ کو دھوکہ دے رہے ہیں کچھ کہ وہ سائل نہیں
سو وہ سائل خود شناسی سے ابھی محروم ہیں
پیچھے ہیں، اپنی مگر پسپائی کے قائل نہیں
شیخ عبداللہ: میں سمجھتا ہوں کہ ارض کاشمر کا اپنا اک کلچر ہے
اک ماحول، اک تاریخ ہے
شاعر: پوری محکومی کی تاریخ
قائدؒ: جواں! سر میں جو میرے دھوپ کا شعلہ لپکتا ہے
سراسر ہندو مسلم۱یکتا والے سرابوں کا تعاقب ہے
مجھے عمریں لگی ہیں وہ شرائط جاننے میں
جن کی پابندی مسلمانوں سے ہندو چاہتا ہے
میں بہت افسوس سے کہتا ہوں
ہر میثاق سے ان کی شرائط
چند دن بعد اور نکلی ہیں
وہ پوری بات کہتے ہی نہیں
ان کا کوئی وعدہ انہیں پابند کر سکتا نہیں
کس بات کا دعویٰ؟
ہمارے ہاں قرار اور قول دونوں ایک شے ہیں
پر وہاں یکسر الگ
جدا اپنے سے ہم کو آپ ہندو مانتا ہے
ہمیں وہ مختلف گردانتا ہے
امتیازات اس کے قائم رہتے ہیں
یہی دو قومیت ہے، تم نہیں سمجھے؟
شیخ عبداللہ: لوگ تو بے خبر ہیں
مجھے اتنا تسلیم ہے
ارض پاک ان کو خوابوں کی دنیا نظر آرہی ہے
وہ اس کے سوا سوچتے بھی نہیں ہیں
مگر لوگ تو لوگ ہیں
ان کے پیچھے تو لیڈر نہیں لگتے
U.Nکا ہر اک کمیشن جو نامطمئن ہے
تو ہم ارضِ کشمیر کے بعض حصوں سے
فوجیں ہٹا لیں گے
نیتا جی جس طرح کہتے ہیں
کچھ چھوڑ دیں گے
قائدؒ: پورے، آدھے جموں و کشمیر کو لینا تو مقصد ہی نہیں
یہ زمیں پر قبضے کا قصہ نہیں
انسانوں کے اک اجتماعی فیصلے والا قضیّہ ہے
ہمارا ایک موقف ہے
کہ آزادی کا ارض کاشمر کی حد تک ایجنڈا ابھی تک نامکمل ہے
ارادیت جسےU.Nمیں ہم دونوں نے مانا ہے
ہم اس کی بات کرتے ہیں
annexationنہیں کہتے
٭ مغربی دانشور: حقوق، انسانیت،جمہوریت اور ردِّاستحصال کی تقریریں نہرو کی
موثر اور بڑی پُر جوش ہوتی ہیں
مگریہ جان کر دل بجھ سا جاتا ہے
کہ کشمیری کے انسانی حقوق
اس نوجواںکے ہاں بھی کچھ وقعت نہیں رکھتے
قائدؒ: کشمیر زنجیر کی طرح رشتہ ہے
اسلامیوں والے صوبوں میں
خوں کی طرح بہتا شفاف پانی
اسی کی عطاہے
یہ شہ رگ ہے، ارض ِوطن کی
بہت سی آوازیں: ”ارضِ گلاب و یاسمن! شام تری سحر تری
ایک سے ایک ہے پھبن شام تری سحر تری
جب کھلی راہِ بانہال جاگ اٹھے ان گنت وبال
رات فساد، دن فتن شام تری سحر تری
ڈھل گیا ڈل پہ آفتاب کھِل اُٹھے ان گنت گلاب
جس طرح بدلے پیرہن شام تری سحر تری
دھوپ کے زعفران کا رنگ ذرا سا اور ہے
ورنہ ہے بادلوں کا بن شام تری سحر تری
ابر کا ایک تار ہے وقت کا اک شمار ہے
ایک تسلسلِ زَمن شام تری سحر تری“
ایک آواز: ارضِ گلاب لُٹ گئی اُلٹ گئی
بخت کی دیوی آئی اور پَلٹ گئی
٭ مغربی شاعر: Let's go then you and I
when the evening is stretched against the Sky
Like a patient etherised upon the table.
ایک آواز: ایک آبادی کشمیریوں کی تو زیرِ زمیں جا چکی
ایک حصہ جو زخمی ہے وہ آپریشن کی ٹیبل پہ ہے
ایک وہ جس کو ابھی جھیلنی ہے کہ ٹیبل نہیں ہیں
٭ ٹی۔ایس۔ایلیٹ
ایک آواز: ٹیبل نہیں ہیں تو ٹیبل منگاو¿
صدا تو لگاو¿
٭ مغربی دانشور: شرمیلاکشمیری ممنون ہوتا ہے
دنیا کی قوموں کو کشمیر کے واسطے
جمع ہوتے ہوئے دیکھ کر
عوام: قائداعظمؒ! اے امیرِ انام
اے امینِ مفادِ عامِ عوام!
زلزلے نے بساط الٹا دی
شاعر زندگانی طشت از بام
یوں زمیں میں مروڑ اُٹھے ہیں
بہتے پانی میں مچ گیا کہرام
دیکھ کشمیریوں کی حالتِ زار
غیر نے دیں بنا دیا دُشنام
اب انہیں کہہ رہے ہیں دہشت گرد
جن کو دہشت نے کر رکھا ہے غلام
اک تھا وہ زلزلہ گزر جو گیا
٭ جوزف کوربل:چیکوسلاویکیہ کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے کشمیر کمشن کے رکن جو کشمیر اور جموں کے دورہ کے بعد بھارتی موقف کے
کھوکھلے پن کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ پھر انھوں نےKashmir in dangerکے نام سے مسئلہ کشمیرکی ایک سچی سچی رو داد لکھی۔
اک وہ جو دے رہا ہے اب پیغام
بھول آئے ہیں کاشمیر میں ہم
خون سے لکھا شوق کا پیغام
پائے دو میل میں پڑی زنجیر
پانی نیلم کا ہو گیا نیلام
شاعر: حرف ِاقبال میں
دہقان و کشت و جوے خیاباں فروختند
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند
ڈیڑھ سو سال پہلے سے
ہم دیکھتے آرہے ہیں
ڈوگروں نے خریدا تو کشمیر کے عام انساںکی قیمت
فقط سات سکے تھی
کشمیر کی وادیاں، زعفراں زار سب مفت میں،
ڈوگرے، ہندو، سکھ اور انگریز سے خوں بہا میں
عدالت مسلماں کے وارث کو
بس دو روپے قیمتِ جاں دلاتی
مگر اس زمانے کے کشمیر کو بھی
کبھی زلزلوں نے ٹٹولانہ تھا
آسماں نے عذابوں کا در ایسے کھولا نہ تھا
قائدؒ: تب لیز(Lease)تھی کشمیر
اب وعدے پہ بخشی گئی اک پیشگی جاگیر
شاعر: ”اب“ اقوام زمینِ ایشیا کا پاسباں تو ہے
ترا وعدہ
ابھی فطرت کو از بر ہے
طور جب ڈگمگایا تو موسٰی ؑنے یوں عرض کی تھی
”الٰہی! ہمیں کیا ہلاکت میں
ان کے عمل کے سبب ڈالتا ہے
جو تکذیب سچائی کی کرتے رہتے ہیں؟“
لیکن پیمبرؑ لرزتے اُحدسے یوں ارشاد کرتے ہیں:
”مت کانپ ! تجھ پر اک نبی ہے
فقط ایک صدیق اوراک شہید“
قائدؒ: آزاد ہونے کے لمحے
تسلسل حکومت کا
ہندو کی قسمت میں تھا
حکم انگریز کا تھا
ہمارا جہاں نامکمل تو کیا؟ کوئی تھا ہی نہیں
سب کے سب اور تھے
ریڈ کلف، ماو¿نٹ بیٹن، سے اپنے گریسی تلک
ورنہ کشمیر تو جیب میں تھا
پکے پھل کی مانند کشمیر جھولی میں آ رہتا
تم ماو¿نٹ بیٹن، گریسی سے محفوظ ہو
اپنے مالک ہو
ہاں سادگی ٭ Old Barracksمیں چھوڑ آئے
عمرؓ یاد آتے ہیں
دیکھ کر رو پڑے
بہت تم کو جلدی تھی محلوں میں جانے کی
سو خیمہ بستی میں جلدی اترنا پڑا
”کام، کام اورکام“ آج کے دن کا فرمان ہے
ضبطِ نفس، اتحاد، اور یقیں خیمہ بستی سکھا دے گی
آدھی صدی میں تم آموختہ بھول بیٹھے ہو
پھر سے پڑھو

 

٭ پاکستان کے ابتدائی دنوں میں کراچی میں قائم کردہ عارضی سیکریٹریٹ

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 |
| 22 | 23 | 24 | 25 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں