شاعری

pictureکفِ ملال

شاعر : خورشید ربانی
قیمت : 120/-روپے
سرِورق : عجب خان
تقسیم کار: اشرف بک ایجنسی، اقبال روڈ ، راولپنڈی، فون:051-5531610
انتساب : ایمن ,تہمینہ, فارعہ, امتیاز حسن , راحیل حسن,نعمان نواز,شفقت اور لیاقت الٰہی کے نام
تشکیل ای بک: نوید فخر

  1. جب سے دربدر ہوں میں
  2. منزلوں چلوں گا ساتھ
  3. تری محبت کی راجدھانی کا کیا کروں میں
  4. نہیں ہے کوئی بھی میرے ہمراہ جانے والا
  5. عکسِ گل ہوں کہ نقشِ حیرت ہوں
  6. نارسائی مرا مقدر ہے
  7. جہاں پہ رازِ سخن آشکار کرنا ہے
  8. میں آفتاب ہوں لیکن مثال ماہ مجھے
  9. فریبِ منزلِ یک آرزو ، قرار کے خواب
  10. کبھی کبھی میری آنکھوں میں جاگ اٹھتے ہیں
  11. شام کنارے اترا میں
  12. محبت ایک بوڑھا دیوتا ہے

جب سے دربدر ہوں میں
جب سے دربدر ہوں میں
بے گھری کے گھر ہوں میں
حرف حرف میں موجود
بات کا اثر ہوں میں

منزلوں چلوں گا ساتھ

منزلوں چلوں گا ساتھ
ایک رہگذر ہوں میں
دھوپ کی عنایت ہے
سایہء شجر ہوں میں
پیڑ ہوں خیالوں کا
اور بے ثمر ہوں میں
ختم ہو نہیں سکتا
خواب کا سفر ہوں میں

 

تری محبت کی راجدھانی کا کیا کروں میں
تری محبت کی راجدھانی کا کیا کروں میں
جو تُو نہیں ہے تو زندگانی کا کیا کروں میں
کئی زمانوں سے تیری جانب رواں ہوں لیکن
قدم قدم رنجِ رائیگانی کاکیا کروں میں

نہیں ہے کوئی بھی میرے ہمراہ جانے والا

نہیں ہے کوئی بھی میرے ہمراہ جانے والا
تو موج در موج اس روانی کا کیا کروں میں
گر اِن اندھیروںکے زخم تو نے بھرے نہیں تو
افق افق تیری حکمرانی کا کیا کروں میں
چراغِ امید جل اٹھا ہے مگر مرے دل
سیاہ تر داغِ بدگمانی کا کیا کروں میں

 

عکسِ گل ہوں کہ نقشِ حیرت ہوں

عکسِ گل ہوں کہ نقشِ حیرت ہوں
آئنے! میں تری ضرورت ہوں
گونجتا ہوں دلوں کے گنبد میں
ایک آوازہء محبت ہوں

نارسائی مرا مقدر ہے

نارسائی مرا مقدر ہے
زیرِ لب اک بیانِ حسرت ہوں
دلِ آسودہ ہے وطن میرا
میں تمنائے دشتِ غربت ہوں
میں ہوں اک پیکرِ خیال و خواب
اور کتنی بڑی حقیقت ہوں
گرچہ میں حرفِ خاک ہوں خورشید
پھر بھی زیبِ کتابِ فطرت ہوں

 

جہاں پہ رازِ سخن آشکار کرنا ہے

جہاں پہ رازِ سخن آشکار کرنا ہے
سو ایک عمر ترے غم سے پیار کرنا ہے
اُجالنا ہیں مجھے تیرگی میں رستے بھی
شجر شجر بھی مجھے سایہء دار کرنا ہے

میں آفتاب ہوں لیکن مثال ماہ مجھے

میں آفتاب ہوں لیکن مثال ماہ مجھے
شب سیہ کا سفر اختیار کرنا ہے
بکھر نہ جائے کہیں ریگزار فرقت میں
سو یہ خیال دلِ بے قرار کرنا ہے
میں اپنے آپ سے بچھڑا ہوا ہوں اے خورشید
مجھے خود اپنا ہی اب انتظار کرنا ہے

 

فریبِ منزلِ یک آرزو ، قرار کے خواب

فریبِ منزلِ یک آرزو ، قرار کے خواب
نظر نظر میں سلگتے ہیں اعتبار کے خواب
بریدہ شاخ نے پھر زخم زخم آنکھوں میں
سجا لیے ہیں کسی موجہء بہار کے خواب

کبھی کبھی میری آنکھوں میں جاگ اٹھتے ہیں

کبھی کبھی میری آنکھوں میں جاگ اٹھتے ہیں
کسی خیال کی خوشبو سے وصلِ یار کے خواب
ہوا کے دل میں نجانے ہے کیا کہ مدت سے
بکھیرتی چلی جاتی ہے ریگزار کے خواب
کہانی اپنی مکمل نہ ہو سکی خورشید
کہ لٹ گئے کہیں رستے میں دُور پار کے خواب

 

شام کنارے اترا میں

شام کنارے اترا میں
ہو گیا ریزہ ریزہ میں
جنگل کی ویرانی میں
خاموشی سے گونجا میں
تنہائی میں روشن ہوں
ایک دیا یادوں کا میں
سندھ کنارے ہوں خورشید
’’پیاس بھرا مشکیزہ‘‘ میں

 

محبت ایک بوڑھا دیوتا ہے

محبت ایک بوڑھا دیوتا ہے
جسے نروان کا غم کھا گیا ہے
ترا میرا یہی دکھ مشترک ہے
ہمیں انسان کا غم کھا گیا ہے

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں