شاعری

pictureکفِ ملال

شاعر : خورشید ربانی
قیمت : 120/-روپے
سرِورق : عجب خان
تقسیم کار: اشرف بک ایجنسی، اقبال روڈ ، راولپنڈی، فون:051-5531610
انتساب : ایمن ,تہمینہ, فارعہ, امتیاز حسن , راحیل حسن,نعمان نواز,شفقت اور لیاقت الٰہی کے نام
تشکیل ای بک: نوید فخر

جانے کس کی خاطر آج
  1. جانے کس کی خاطر آج
  2. خیال اور خواب ہو گیا ہوں
  3. بکھرنے لگ گئے ہیں میرے کاغذ
  4. جب سے اس شہرِ بے مکان میں ہوں
  5. میں نے تنہائیوں کو پالنا ہے
  6. ستاروں زائچوں میں کھو گیا تھا
  7. مجھے تصویر کے سو رخ دکھا کر
  8. سورج نے جب شب کا لبادہ پہن لیا تھا
  9. ماتمی کپڑے پہن لیے تھے میری زمیں نے
  10. یہ کیا کہ درد کی پہنائیوں سے ڈرتے ہیں

جانے کس کی خاطر آج

جانے کس کی خاطر آج
جھیل کنارے اترا چاند
دل کے افق پر روشن ہے
یادوں کا رنجیدہ چاند
خوابوں کا رکھوالا ہے
خیمہء شب میں جلتا چاند
اپنے دل کے زخم چھپائے
صدیوں سے ہے چپ سا چاند
رات سمندر میں خورشید
اک خاموش جزیرہ چاند

 

خیال اور خواب ہو گیا ہوں
خیال اور خواب ہو گیا ہوں
میں خود پہ بھی عذاب ہو گیا ہوں
گھنے شجر کی شاخ سے بچھڑ کر
میں خانماں خراب ہو گیا ہوں

بکھرنے لگ گئے ہیں میرے کاغذ

بکھرنے لگ گئے ہیں میرے کاغذ
قدیم تر کتاب ہو گیا ہوں
میں بن نہیں رہا کسی طرح بھی
کہ نقشِ سطح آب ہو گیا ہوں
سو بن گئی ہے رات میری دشمن
کہ میں اک آفتاب ہو گیا ہوں

 

جب سے اس شہرِ بے مکان میں ہوں

جب سے اس شہرِ بے مکان میں ہوں
میں ترے اِسم کی امان میں ہوں
گنبدِ شعر میں جو گونجتی ہے
میں اسی درد کی اذان میں ہوں

میں نے تنہائیوں کو پالنا ہے

میں نے تنہائیوں کو پالنا ہے
اس لیے خواب ہی کے دھیان میں ہوں
تتلیاں رنگ چنتی رہتی ہیں
اور میں خوشبوئوں کی کان میں ہوں
وحشتیں ، عشق اور مجبوری
کیا کسی خاص امتحان میں ہوں
خواہشیں سایہ سایہ بکھری ہیں
اور میں دھوپ کے مکان میں ہوں
میں ہوں پیکانِ درد اے خورشید
اور اک یاد کی کمان میں ہوں

 

ستاروں زائچوں میں کھو گیا تھا

ستاروں زائچوں میں کھو گیا تھا
میں کیسے واہموں میں کھو گیا تھا
میں تیری یاد کو آواز دے کر
دکھوں کے منظروں میں کھو گیا تھا

مجھے تصویر کے سو رخ دکھا کر

مجھے تصویر کے سو رخ دکھا کر
وہ شیشہ کرچیوں میں کھو گیا تھا
تمہارے خواب کی سرحد سے آگے
مرا دل رتجگوں میں کھو گیا تھا
ستارا بام پر خورشید چمکا
مگر پھر گھاٹیوں میں کھو گیا تھا

 

سورج نے جب شب کا لبادہ پہن لیا تھا
سورج نے جب شب کا لبادہ پہن لیا تھا
ہر اک شے نے اپنا سایہ پہن لیا تھا
اپنا عُریاں جسم چھپانے کی کوشش میں
تیز ہوا نے پتا پتا پہن لیا تھا

ماتمی کپڑے پہن لیے تھے میری زمیں نے

ماتمی کپڑے پہن لیے تھے میری زمیں نے
اور فلک نے چاند ستارہ پہن لیا تھا
بم کے دھماکے سے زخمی تھی پھولوں والی
اور بازار نے ایک تماشا پہن لیا تھا
سارا شہر شریک ہوا تھا اس کے دکھ میں
جس دن اس نے غم کا لمحہ پہن لیا تھا
مایوسی کے عالم میں بھی اے خورشید
ہم نے اک امید کا رستہ پہن لیا تھا

 

یہ کیا کہ درد کی پہنائیوں سے ڈرتے ہیں

یہ کیا کہ درد کی پہنائیوں سے ڈرتے ہیں
ہم ایسے لوگ بھی سچائیوں سے ڈرتے ہیں
بتا کے حالِ دلِ زار اک زمانے کو
عجیب لوگ ہیں رسوائیوں سے ڈرتے ہیں
ہم اپنے دل میں چھپائے ہوئے تری خوشبو
ترے خیال کی پُروائیوں سے ڈرتے ہیں
کسی کے نام پہ خورشید کاٹ لیں گے حیات
بس ایک عمر کی تنہائیوں سے ڈرتے ہیں

 

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں