شاعری

pictureکفِ ملال

شاعر : خورشید ربانی
قیمت : 120/-روپے
سرِورق : عجب خان
تقسیم کار: اشرف بک ایجنسی، اقبال روڈ ، راولپنڈی، فون:051-5531610
انتساب : ایمن ,تہمینہ, فارعہ, امتیاز حسن , راحیل حسن,نعمان نواز,شفقت اور لیاقت الٰہی کے نام
تشکیل ای بک: نوید فخر

  1. حسرتیں دل کی بڑھاتا ہی چلا جاتا ہے
  2. اک بگولہ پئے تسکینِ تمنا کب سے
  3. مرے نصیب کا ہے یا ستارہ خواب کا ہے
  4. جلے بجھے ہوئے خیمے کی راکھ میں جس کو
  5. صلیبِ درد پہ وارا گیا تھا کیوں مجھ کو
  6. پلٹ رہا تھا درِ خواب سے جو خالی ہاتھ
  7. قریہ قریہ گھوما چاند

حسرتیں دل کی بڑھاتا ہی چلا جاتا ہے
حسرتیں دل کی بڑھاتا ہی چلا جاتا ہے
خواب میں کوئی جب آتا ہی چلا جاتا ہے
کوئی ٹوٹا ہوا پتا، کوئی بکھرا ہوا خواب
درد کی جوت جگاتا ہی چلا جاتا ہے

اک بگولہ پئے تسکینِ تمنا کب سے

اک بگولہ پئے تسکینِ تمنا کب سے
دشت میں خاک اڑاتا ہی چلا جاتا ہے
طاقِ اخلاص میں جلتا ہوا اک ایک چراغ
تیرگی دل کی مٹاتا ہی چلا جاتا ہے
ایک نقطہ سرِ قرطاسِ محبت دل میں
دائرے غم کے بناتا ہی چلا جاتا ہے
کوئی خورشید مرے دشتِ گماں میں آکر
فکر کے پھول کھلاتا ہی چلا جاتا ہے

 

مرے نصیب کا ہے یا ستارہ خواب کا ہے

مرے نصیب کا ہے یا ستارہ خواب کا ہے
سفر کے باب میں لیکن سہارا خواب کا ہے
ترے خیال کا صحرا عبور کرنے میں
ہے نفع درد کا لیکن خسارہ خواب کا ہے

جلے بجھے ہوئے خیمے کی راکھ میں جس کو

جلے بجھے ہوئے خیمے کی راکھ میں جس کو
ستارے ڈھونڈتے ہیں وہ شرارہ خواب کا ہے
خدا کرے کہ کھلے ایک دن زمانے پر
مری کہانی میں جو استعارہ خواب کا ہے
برس رہا ہے زمین سخن پہ جو خورشید
کسی ملال کا یا ابر پارہ خواب کا ہے

 

صلیبِ درد پہ وارا گیا تھا کیوں مجھ کو
صلیبِ درد پہ وارا گیا تھا کیوں مجھ کو
غمِ فراق سے مارا گیا تھا کیوں مجھ کو
کسی خیال ، کسی خواب کے جزیرے پر
تمام عمر گزارا گیا تھا کیوں مجھ کو

پلٹ رہا تھا درِ خواب سے جو خالی ہاتھ
پلٹ رہا تھا درِ خواب سے جو خالی ہاتھ
تو بار بار پکارا گیا تھا کیوں مجھ کو
کفِ گماں سے جو گرِنا تھا عمر بھر کیلئے
تو ایک پل کو سہارا گیا تھا کیوں مجھ کو
اگر نہیں تھا یہاں کوئی منتظر میرا
تو پھر فلک سے اتارا گیا تھا کیوں مجھ کو
کسی نے میری طرف دیکھنا نہ تھا خورشید
تو بے سبب ہی سنوارا گیا تھا کیوں مجھ کو

 

قریہ قریہ گھوما چاند

قریہ قریہ گھوما چاند
آوارہ آوارہ چاند
میری صورت جاگتا ہے
رات گئے تک تنہا چاند

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں