شاعری

pictureکفِ ملال

شاعر : خورشید ربانی
قیمت : 120/-روپے
سرِورق : عجب خان
تقسیم کار: اشرف بک ایجنسی، اقبال روڈ ، راولپنڈی، فون:051-5531610
انتساب : ایمن ,تہمینہ, فارعہ, امتیاز حسن , راحیل حسن,نعمان نواز,شفقت اور لیاقت الٰہی کے نام
تشکیل ای بک: نوید فخر

دیکھتا ہوں نصاب پتھر کے
  1. دیکھتا ہوں نصاب پتھر کے
  2. جب سے تو نے شجر کیا ہے مجھے
  3. قافلوں کو تلاش ہے میری
  4. صحرا کی ویرانی بھرنے آئی تھی
  5. میرے دل کے ٹھنڈے میٹھے چشمے پر
  6. چراغِ زخمِ تمنا کی لو بڑھائے ہوئے
  7. کوئی نہیں جو مٹائے مری سیہ بختی

دیکھتا ہوں نصاب پتھر کے
دیکھتا ہوں نصاب پتھر کے
آنکھ شیشے کی ، خواب پتھر کے
میرے آنگن میں پیڑ بیری کا
سہہ رہا ہے عذاب پتھر کے
کون رکھتا ہے روز رستے میں
میری خاطر گلاب پتھر کے
بتکدے کے سوال پر یارو
کون سنتا جواب پتھر کے
جانے کس کی تلاش میں گم ہیں
قافلے زیرِ آب پتھر کے

 

جب سے تو نے شجر کیا ہے مجھے

جب سے تو نے شجر کیا ہے مجھے
رنگ و نکہت نے گھر کیا ہے مجھے
میں تو بے مول ایک آنسو تھا
تیرے غم نے گہر کیا ہے مجھے

قافلوں کو تلاش ہے میری

قافلوں کو تلاش ہے میری
تو نے یوں رہگذر کیا ہے مجھے
ایک پل ہوں محیط صدیوں پر
روز و شب نے بسر کیا ہے مجھے
دن مجھے شام کر گیا خورشید
اور شب نے سحر کیا ہے مجھے


صحرا کی ویرانی بھرنے آئی تھی

صحرا کی ویرانی بھرنے آئی تھی
اور کوئی دیوانی بھرنے آئی تھی
اک دن میری تنہائی کے زخموں کو
سرد ہوا مستانی بھرنے آئی تھی

میرے دل کے ٹھنڈے میٹھے چشمے پر

میرے دل کے ٹھنڈے میٹھے چشمے پر
اک دوشیزہ پانی بھرنے آئی تھی
میری غزل کے بے معنی سے حرفوں میں
تیری یاد معانی بھرنے آئی تھی
تیرے بدن کی خوشبو میری سانسوں میں
کوئی شام سہانی بھرنے آئی تھی
میرے خوابوں کے دامن میں اے خورشید
خوشبو، رات کی رانی بھرنے آئی تھی

 

چراغِ زخمِ تمنا کی لو بڑھائے ہوئے

چراغِ زخمِ تمنا کی لو بڑھائے ہوئے
فصیلِ غم میں ہے اک آس در بنائے ہوئے
اک آرزو کے سفر سے پلٹ رہا ہوں میں
دلِ و نگاہ کی محرومیاں اٹھائے ہوئے

کوئی نہیں جو مٹائے مری سیہ بختی

کوئی نہیں جو مٹائے مری سیہ بختی
فلک پہ کتنے ستارے ہیں جگمگائے ہوئے
کوئی فرات کا دریا ہیں میری آنکھیں بھی
ہوائے درد ہے پہرے جہاں بٹھائے ہوئے
بہت دنوں سے ہے خورشید یہ خرابہء دل
مرے نصیب کی ویرانیاں بسائے ہوئے


صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں