شاعری

pictureاکھیاں بیچ الاو

 

شاعر : ماجد صدیقی
ناشر :
قیمت:
تشکیل ای بک: نوید فخر

انڈیکس
  1. آنکھوں کو نہیں سوجھتا، آزار کہاں ہے
  2. اب کی بہار بھی چلتے دیکھا
  3. اب کے چلن ہوا کا غضب اور ڈھائے گا
  4. اب کے یہ کیا حشر اٹھا ہے شہروں میں
  5. بے سمت سب علاج مسیحا کہاں ملے
  6. پڑے ہیں دیکھنے کیا کربِ آشکار کے دن
  7. تھے جتنے ذائقے وہ اپنا لطف کھونے لگے
  8. ٹھہرے جو بھسم ، مِلکِ ستم گار نہیں تھے
  9. جس انداز کا تھا اس سے منسوب سلوک ایسا ہی کیا
  10. جو حق میں تمہارے بند رہیں وہ لب گنجینہ زر کر دو
  11. جو آنکھیں دیکھتی ہوں دھند کے اس پار، کم کم ہیں
  12. جب سے اندر سے بِکے اخبار میرے شہر کے
  13. چمن پہ ہے تو بس اِتنا سا اختیار ہمیں
  14. چہرہ سرو قداں پر داغِ ندامت ٹھہرے
  15. حرص و نخوت کے اندھے نگر
  16. خلق نے تو اس کو ایسے میں بھی ذی شاں کہہ دیا
  17. خونِ مظلوماں سے ہیں شاداب ہونے لگ پڑیں
  18. دستِ شفقت کیوں بہ حقِ جور بن جانے لگا
  19. دمِ زوال ، رعونت زباں پہ لائے بہت
  20. دوسروں کے واسطے جیا تھا مر گیا
  21. دھڑکتی گونجتی اِک خامشی سی شہر میں ہے
  22. ذرّوں سے پہچان ہے ضو کی، ماہِ مبیں کوئی اور
  23. رہِ سفر میں ہوئیں ہم پہ سختیاں کیا کیا
  24. ریا کی زد پہ ہے کب سے اسے سنبھلنے دو
  25. انتظار

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں