نثر

pictureعشق کا قاف

 

ناشر :
قیمت:
تشکیل ای بک:

صفحہ نمبر 1
موسم، طوفانِ باد و باراں کے اشاروں پر رقص کر رہا تھا۔
سپیڈ کم ہوئی اور کار رک گئی۔ اس نے ہا رن دبایا۔ تیسری آواز پر گیٹ کھل گیا۔
بادل ایک بار پھر بڑے زور سے گرجی۔ بارش میں اور شدت آ گئی۔ کار آگے کو سرکی مگر اس سے پہلے کہ کار گیٹ سے اندر داخل ہو تی، بجلی زور سے چمکی۔ فانوس سے روشن ہو گئی۔
وہ چونک اٹھا۔
اس کی تیز نظریں گیٹ کے باہر بائیں ہاتھ بنے چھوٹے سے سائبان تلے چھائے اندھیرے میں جم گئیں۔
"کیا بات اے صاب! " پٹھان چوکیدار نے بارش میں بھیگتے ہوئے پوچھا۔
"خان۔۔۔ "لیکن اس سے پہلے کہ وہ فقرہ پورا کرتا، برق پھر کوندی۔ وہ تیزی سے کار کا دروازہ کھول کر باہر کو لپکا۔ اس دوران خان بھی گیٹ سے باہر نکل آیا۔
بارش اور تیز ہوا کی پرواہ کئے بغیر دو تین لمبے لمبے ڈگ بھر کر وہ اس اندھیرے کونے میں پہنچ گیا، جہاں دو بار برق نے اجالا کیا تھا۔
ایک سایہ تھا جو بیدِ مجنوں کی طرح لرز رہا تھا۔
"کون ہو تم؟" اس نے جلدی سے پوچھا اور ایک بار پھر اس کی نظریں چندھیا گئیں۔
"میں۔۔۔ " ایک کمزور سی نسوانی آواز ابھری۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ اجنبی وجود زمین پر آ رہتا، اس کے مضبوط اور گرم بازوؤں نے اسے سنبھال لیا۔
"خان۔ " اس نے پلٹ کر پکارا۔
"جی صاب۔ "قریب ہی سے آواز ابھری۔
"میں کمرے میں جا رہا ہوں۔ گاڑی گیراج میں بند کر کے وہیں چلے آؤ۔ جلدی۔ "
"جی صاب۔ "وہ تعمیل حکم کے لئے جلدی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے اس نازک، برف سے زیادہ سرد اور لہروں سے زیادہ نرم وجود کو باہوں میں بھر لیا، جو اَب لکڑی کی مانند کھردرا اور پتھر کی مانند سخت ہوا جا رہا تھا۔ تیز تیز چلتا ہوا وہ پورچ پار کر کے برآمدے میں پہنچا۔ پاؤں کی ٹھوکر سے دروازہ کھولا اور مختصر سی راہداری کو طے کر کے ہال میں چلا آیا۔ ایک لمحے کو کچھ سوچا، پھر سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔
ایک کمرہ چھوڑ کر دوسرے کمرے کے دروازے پر پہنچ کر اس نے پھر دائیں پاؤں سے کام لیا۔ اندر داخل ہوا اور بستر کی طرف بڑھ گیا۔
دھیرے سے اس نے اپنے بازوؤں میں بھرے اس ریشمیں خزانے کو احتیاط سے سمیٹ کر بیڈ پر رکھ دیا، پھر اسے گرم لحاف میں چھپا دیا۔ شاید اس لئے کہ کوئی اور دیکھ نہ لی۔ ایک لمحے کو اس کی نظریں اس سمٹے پڑے خزانے کے تر بتر چہرے پر جم گئیں ، جہاں سیاہ لانبی زلفیں کسی بادلوں میں چھپے چاند یا گھٹاؤں میں قید برق کا سماں پیش کر رہی تھیں۔ اسی وقت خان اندر داخل ہوا۔
"اوہ خان۔ " اس نے جلدی سے کہا۔ کچھ سوچا پھر تیزی سے ٹیلی فون کی طرف بڑھ گیا۔
ڈاکٹر کو فون کر کے وہ حکم کے منتظر اور چور نظروں سے اس خوابیدہ حسن کو تکتے خان کی طرف متوجہ ہوا اور ہولے سے مسکرایا۔
"خان۔ "
"جی صاب۔ " وہ گھبرا سا گیا۔
"تمام نوکر تو سوچکے ہوں گے۔ "
"جی صاب۔ " اس نے اپنا مخصوص جواب دہرایا۔
"ہوں۔ "وہ کچھ سوچنے لگا۔ پھر کہا۔ "تم نیچے چلے جاؤ۔ اپنے ڈاکٹر صاحب آرہے ہیں۔ ان کو لے کر اوپر چلے آنا۔ "
"جی صاب!" اور خان ایک نظر بستر پر ڈال کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے آگے بڑھ کر سوئچ بورڈ پر ایک بٹن دبا دیا۔ ایر کنڈیشنڈ سسٹم گہری نیند سے جاگ گیا۔ پھر اس کی نادیدہ تپش نے دھیرے دھیرے کمرے کو گرم کرنا شروع کیا۔ اس نے مطمئن انداز میں سر ہلا کر بند کھڑکیوں کی جانب دیکھا اور کرسی گھسیٹ کر بستر کے قریب لے آیا۔ بیٹھتے ہوئے وہ قدرے جھک گیا اور نظریں اس خاموش گلاب پر جما دیں جس کی دو پنکھڑیاں اپنی سرخی کھونے لگی تھیں۔ نیلاہٹ ابھری چلی آ رہی تھی۔
وہ آہستہ سے لرزی تو بے چینی سے وہ کلائی پر بندھی رسٹ واچ پر نظر ڈال کر رہ گیا۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔
اس کی بے تاب نظریں اس غنچہ دہن پر جم گئیں ، جس میں اب پھر کوئی حرکت نہیں تھی۔ آہستہ سے اٹھا۔ جھکا اور لحاف کو اچھی طرح اس پر لپیٹ کر سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اب وہ بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ اسی وقت ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا چلا آ رہا ہو۔
" آئیے آیئے انکل۔ "وہ کمرے میں داخل ہوتے ادھیڑ عمر مگر مضبوط جسم کے مالک ڈاکٹر ہاشمی کی طرف بڑھا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے رین کوٹ اتار کر اس سے مصافحہ کیا۔
"کیا بات تھی بیٹی۔ میں تو تمہارا فون سنتے ہے۔۔۔ "اور ان کی آواز حلق ہی میں اٹک گئی۔ حیرت زدہ نظریں بستر پر پڑی جوان اور نیلی پڑتی لڑکی کے وجود پر ٹھہر گئیں۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔ چند لمحوں بعد ان کا تجربہ کار ہاتھ لڑکی کے ماتھے سے ہٹا تو وہ کچھ مضطرب سے نظر آ رہے تھے۔
"خان۔۔۔ میرا بیگ۔ " وہ بولے اور خان کے ساتھ ہی وہ بھی ان کے قریب چلا آیا۔
بیگ کھلا اور ڈاکٹر اپنے فرض میں ڈوبتا چلا گیا۔ وہ خاموشی سے ڈاکٹر ہاشمی کی کوششوں کا جائزہ لیتا رہا۔ کتنی ہی دیر گزر گئی اور تب ڈاکٹر ہاشمی ایک طویل سانس لے کر بستر کی پٹی سے اٹھ کھڑے ہوئی۔
"انکل!" وہ مضطربانہ انداز میں اتنا ہی کہہ سکا۔
"الحمد للہ۔ خطرہ ٹل چکا ہے۔ " وہ آگے بڑھ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ "خان۔ کچن سے دودھ لے آؤ۔ "انہوں نے کہا اور خان کمرے سے نکل گیا۔ "ہاں۔ اب کہو۔ یہ سب کیا چکر ہے؟" ڈاکٹر ہاشمی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
"چکر۔۔۔ ؟" وہ جھینپ گیا۔ "چکر تو کوئی نہیں ہے انکل! میں پکچر دیکھ کر لوٹا تو یہ باہر گیٹ کے پاس کھڑی نظر آئی۔ میں کار سے نکل کر اس کے قریب پہنچا مگر کچھ پوچھنے اور بتانے کی نوبت ہی نہ آئی اور یہ بے ہوش ہو گئی۔ میں اسے اٹھا کر اندر لے آیا اور آپ کو فون کر دیا۔ بس، یہ ہے ساری بات۔ "
"ہوں۔ ڈاکٹر ہاشمی کے ہونٹ شرارت سے پھڑکی۔ " بیٹے۔ لڑکی تھی ناں۔ اگر صنف کرخت ہوتی تو۔۔۔ "
" آپ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں انکل۔ "وہ مسکرا کر بولا اور ڈاکٹر ہاشمی ہنس دئیے۔
"میں تو مذاق کر رہا تھا۔ ہاں۔۔۔ بیگم صاحبہ زمینوں سے نہیں لوٹیں ابھی؟"
"جی نہیں۔ ابھی کافی دن رکیں گی وہاں۔ "
اسی وقت خان دودھ کا بھر ا جگ اور گلاس لئے اندر داخل ہوا۔ "صاب۔ دودھ بہوت تا۔ ہم گرم کر لائی۔ "وہ جگ میز پر رکھتے ہوئے بولا۔
"یہ تو بہت اچھا کیا خان۔ "وہ دودھ گلاس میں انڈیلتا ہوا بولا۔
دودھ پی کر فارغ ہو گئے تو ڈاکٹر ہاشمی اٹھ کھڑے ہوئی۔ "اچھا بیٹی۔ میں چلتا ہوں۔ بارش کا زور کم ہو رہا ہے۔ کہیں پھر زور نہ پکڑ لے۔ "
"بہتر انکل۔ "وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ خان نے ڈاکٹر کا بیگ تھام لیا۔
"صبح دس بجے سے پہلے ہوش نہیں آئے گا۔ پریشان نہ ہونا۔ "وہ پھر مسکرا دیے اور وہ جھینپ کران کی ہدایات کو ذہن نشین کرنے لگا۔ " نیند کے انجکشن کا اثر کم از کم نو گھنٹے رہے گا۔ کیپسول تپائی پر پڑے ہیں۔ ہوش آنے پر ہر چار گھنٹے بعد گرم دودھ سے دو کیپسول دیتے رہنا۔ " ڈاکٹر ہاشمی رخصت ہو گئے۔
کمرہ خاصا گرم ہو چکا تھا۔ نیلے ہونٹ اب کچھ کچھ گلابی نظر آ رہے تھے۔ اس نے مطمئن انداز میں سر ہلایا اور بستر کے قریب چلا آیا۔ سانس اب مناسب رفتار سے چل رہا تھا۔ چہرہ پُرسکون تھا۔ کتنی ہی دیر تک وہ اس محو استراحت حسنِ بے پرواہ کو تکتا رہا۔
"صاب۔ " خان کی آواز اسے بچھو کے ڈنک ہی کی طرح لگی۔
وہ تیزی سے پلٹا۔ "تم ابھی تک یہیں ہو۔ "اس کے لہجے میں کچھ اکتاہٹ تھی مگر خان بھی مجبور تھا۔ اسے نیند نے تنگ کر رکھا تھا۔ وہ بلاوجہ اس کی محویت کو ختم کرنے کا قصور وار نہ ہوا تھا۔
"کوئی حکم صاب؟" وہ ڈر سا گیا۔
"کچھ نہیں۔ بس جاؤ۔ اور دیکھو۔ اس کمرے میں کوئی مت آئے۔ میں ساتھ والے کمرے میں آرام کروں گا۔ "
"جی صاب۔ "وہ سلام کر کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
چند لمحے وہ بستر پر پڑے مصور کے اس حسین خیال کو گل پاش نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر پلٹ کر دھیرے دھیرے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
* * *
صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں